نئی دہلی،یکم اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس قیادت پر سوال اٹھانے کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور پارٹی کے سینئر رہنما نٹور سنگھ نے کہا کہ اب کانگریس میں الٹے سیدھے فیصلے کیے جارہے ہیں۔سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے جمعرات کو کانگریس کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال سب سے پرانی پارٹی کیلئے بالکل اچھی نہیں ہے اور اس کیلئے3 لوگ ذمہ دار ہیں، ان میں سے ایک راہل گاندھی ہیں۔ راہل کوئی عہدہ بھی نہیں رکھتے، لیکن وہ تمام معاملات میں فیصلے لیتے ہیں۔اس سے قبل بدھ کے روز سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر رہنما کپِل سبل نے قیادت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں صرف‘ جی حضوروں ’کی سنی جا رہی ہے جس سے نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس قیادت کے فیصلوں کے بارے میں بویلنا نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ بلانے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے پارٹی صدر سونیا گاندھی کو ایک خط لکھا ہے۔مسٹر سبل اور مسٹر آزاد کے بعد مسٹر نٹور سنگھ نے اب پارٹی کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیپٹن امریندر سنگھ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کانگریس کے وفادار رہے۔ وہ یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پارٹی کے اس قدآور لیڈر کو ہٹانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں پنجاب کانگریس میں جو بھی پیش رفت ہوئی وہ غلط تھی اور کانگریس قیادت نے کیپٹن کو ہٹانے کا جوفیصلہ کیا، یہ بہت غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کی اہم سیاسی پارٹی ہے لیکن پارٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی، جو پارٹی کی اعلیٰ ترین پالیسی ساز ادارہ ہے، بڑے مسائل پر فیصلے کرتی ہے، لیکن اب اس ادارے کی میٹنگ نہیں بلائی جا رہی ہے۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ محترمہ سونیا گاندھی، مسٹر راہل گاندھی اور محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا کانگریس ہائی کمان ہیں، لیکن یہاں جو فیصلے ہورہے ہیں ان سے ہائی کمان کی اہمیت کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں سب کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد فیصلے کیے جانے چاہئیں اور ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔